سہ گئے سادات کیسے فیصلہ تقدیر کا
جان لیوا مرحلہ تھا ہجرت شبیر کا
لگ رہا ہے گھر سے رخصت، اک جنازہ ہو گیا
باہر آیا ہے قدم جو ملکہ تطہیر کا
کر کے مادر کے حوالے ، کہتے کہتے الوداع
چوم کر منہ روئے صغری اصغر بے شیر کا
فخر اسماعیل بیٹا کرنے قرباں شہ چلے
خواب ابرہیم کو لطف آگیا تعبیر کا
کر بلا شاید ہی جا پاتے حسین ابن علی
نہ اگر رستے میں ملتا حوصلہ ہمشیر کا
کربلا خود کو معلی کیوں نہ اب سمجھے زمان
شہ ارادہ کر لیا ہے دشت کی تعمیر کا
| Noha Title | Seh Gaye Sadat Kaisay Faisla Taqdeer Ka |
|---|---|
| Noha Khuwan | Turabi Brothers |
| Poetry | Sikandar Zaman |
| Soz | Ali Jibran |
| Sangat |